لاہور (نیوز ڈیسک) حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو اٹھائیس ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان پالیسیوں کے باعث کسان بازار میں گندم آٹھ سے ساڑھے آٹھ سو روپے فی من بیچنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے کسانوں کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اثرورسوخ رکھنے والے لاکھوں بوری باردانہ لے گئے جبکہ عام کسان محروم رہا۔ جی ایس ٹی ٹیکس کے نفاذ کے بعد کسان کی فی ایکڑ لاگت میں چارہزار روپے کا اضافہ اور پیداوار میں دس فیصد تک کمی ہو جائے گی۔ ان باتوں کا اظہارصدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین نے مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے کسانوں کو نو سو ارب روپے کا نقصان ہوا اور آنے والی امداد کو عام کسانوں کو دینے کے بجائے بااثرافراد کو دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آر جی ایس ٹی کے نفاذ سے اب ٹریکٹروں کی قیمت میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے۔June 06, 2011
گندم خریداری پالیسی،کسانوں کو سخت نقصان
لاہور (نیوز ڈیسک) حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو اٹھائیس ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان پالیسیوں کے باعث کسان بازار میں گندم آٹھ سے ساڑھے آٹھ سو روپے فی من بیچنے پر مجبور ہوئے جس کی وجہ سے کسانوں کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اثرورسوخ رکھنے والے لاکھوں بوری باردانہ لے گئے جبکہ عام کسان محروم رہا۔ جی ایس ٹی ٹیکس کے نفاذ کے بعد کسان کی فی ایکڑ لاگت میں چارہزار روپے کا اضافہ اور پیداوار میں دس فیصد تک کمی ہو جائے گی۔ ان باتوں کا اظہارصدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین نے مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے کسانوں کو نو سو ارب روپے کا نقصان ہوا اور آنے والی امداد کو عام کسانوں کو دینے کے بجائے بااثرافراد کو دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آر جی ایس ٹی کے نفاذ سے اب ٹریکٹروں کی قیمت میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment